ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سماجوادی کے منشورمیں مسلمانوں کاکوئی تذکرہ نہیں،کانگریس کے تئیں ہمدردی فضول

سماجوادی کے منشورمیں مسلمانوں کاکوئی تذکرہ نہیں،کانگریس کے تئیں ہمدردی فضول

Tue, 24 Jan 2017 11:36:15    S.O. News Service

سیکولرزم کی ساری ذمہ داری مسلمانوں پرہی نہیں ہے ،ایس پی ۔کانگریس اتحاد پر مولانا محمد معظم احمد کا رد عمل

نئی دہلی،23جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) یوپی اسمبلی انتخابات کے لئے ایس پی ۔کانگریس کے درمیان ہوئے اتحاد پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فتح پوری مسجد کے نائب شاہی امام او ر آل انڈیا تحریک حمایت الاسلام کے صدر مولانا محمد معظم احمد نے آج کہا ہے کہ سماج وادی پارٹی اورکانگریس کا اتحاد بہ ظاہر مسلم ووٹوں کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے کیا گیا ہے ، لیکن سماج وادی کے منشور میں مسلمانوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اور کانگریس کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ مولانا محترم نے کہاکہ گذشتہ 60سالوں میں جہاں کانگریس کے دور اقتدار میں اور کانگریس کو ووٹ دے دے کر مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بدتر ہوگئی اور سرکاری ملازمتوں و دیگر محکموں میں مسلمانوں کی تعداد صفر کے برابر ہے وہیں گذشتہ پانچ سالوں میں سماج وادی پارٹی نے بھی کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے یہ کہاجاسکے کہ سماج وادی پارٹی مسلمانوں کے ووٹوں کی اخلاقی حقدار ہے۔مولانا محترم نے کہاکہ سماج وادی کے دور میں تقرریاں اس بات کی دلیل ہیں کہ سماج وادی کو مسلمانوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا نے یہ بھی کہاکہ افسران سے لیکر پارٹی لیڈران تک سماج وادی نے مسلمانوں کو کہیں کوئی جگہ نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی ایس پی ضیاء الحق کا قتل بھی سماج وادی کے دور میں ہوا ہے۔ مولانا محترم نے کہاکہ مظفر نگر سے لیکر دادری تک جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں وہ بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ سماج وادی پارٹی مسلمانوں کی کتنی بہی خواہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں کئی سیاستداں یہ پیغام دے چکے ہیں کہ اگر سرکار نہ چاہئے تو ریاست میں پتہ بھی نہیں کھڑکے گا اور یہاں لاکھوں گھر اجڑجاتے ہیں اورہزاروں لوگ مار دیئے جاتے ہیں پھر معاوضہ کا ڈھونگ رچا جاتا ہے کیا یہی سیاست اور انسانیت کا معیار ہے۔ مولانانے واضح الفاظ میں کہاکہ کسی سنگھ یا سِنگھ پریوار کی مضبوطی سے مسلمانوں کا بھلا نہیں ہونے والا ہے ۔مولانا محترم نے کہاکہ ہمیشہ یہی کہاجاتاہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولر زم کا تحفظ کریں لیکن اب اس کا ڈھونگ بندہونا چاہئے انہوں نے کہاکہ اس ملک میں سیکولرزم کے تحفظ کی جتنی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے اتنی ہی بردران وطن پربھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کو صرف ووٹنگ مشین کاذریعہ نہیں سمجھناچاہئے۔ مولانا محترم نے ابھی ہم پارٹیوں کے منشور کا دراسہ کررہے ہیں اس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کیاکرناہے اورپوری پلاننگ اور حکمت کیساتھ ووٹنگ کا منصوبہ تیار کریں گے ، جس میں شور کم اوراثرزیادہ ہو۔


Share: